Khwab urdu Poetry
میں نے کل خواب میں آئیندە کو چلتے دیکھا
رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا
روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نا تھا
لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا
ایک خوش فہم کو روتے ہوۓ دیکھا میں نے
ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا
روز پلکوں پے گئ رات کو روشن رکھا
روز آنکھوں میں گۓ دن کو مچلتے دیکھا
صبح کو تنگ کیا خود پے ضرورت کا حصار
شام کو پھر اُسی مشکل سے نکلتے دیکھا
ایک ہی سمت میں کب تک کوئی چل سکتا ہے
ہاں ! کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا
عزم اِس شہر میں اب ایسی کوئی آنکھ نہیں
گرنے والے کو یہاں جس نے سنبھلتے دیکھا
رزق اور عشق کو اک گھر سے نکلتے دیکھا
روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نا تھا
لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا
ایک خوش فہم کو روتے ہوۓ دیکھا میں نے
ایک بے رحم کو اندر سے پگھلتے دیکھا
روز پلکوں پے گئ رات کو روشن رکھا
روز آنکھوں میں گۓ دن کو مچلتے دیکھا
صبح کو تنگ کیا خود پے ضرورت کا حصار
شام کو پھر اُسی مشکل سے نکلتے دیکھا
ایک ہی سمت میں کب تک کوئی چل سکتا ہے
ہاں ! کسی نے مجھے رستہ نہ بدلتے دیکھا
عزم اِس شہر میں اب ایسی کوئی آنکھ نہیں
گرنے والے کو یہاں جس نے سنبھلتے دیکھا
0 comments:
Post a Comment