اک موسم ھے برساتوں کا

اس دل کے چند اثاثوں میں اک موسم ھے برساتوں کا
اک صحرا ہجر کی راتوں کا، اک جنگل وصل کے خوابوں کا

اس چودھویں رات کے سائے میں جب آخری بار ملے تھے ھم
یہ دل پاگل کب بھولتا ھے وہ باغ سفید گلابوں کا

مرے خیمہ دل کے پاس کہیں اک جگنو ٹھہر گیا اور پھر
سیلاب تھا ساری بستی میں اندازوں کا، آوازوں کا

ہم لوگ جنوں کے عالم میں منزل کی طلب بھی بھول گے
اب دل کو بھلا سا لگتا ہے، صحرا میں عکس سرابوں کا

0 comments:

Post a Comment

 
Copyright © Urdu Poetry