Bhula sakta hu urdu poetry

Bhula sakta hu urdu poetry


ایک سن سکتا ہوں تو چار سنا سکتا ہوں 
پیار کرتا ہوں مگر خوب انا رکھتا ہوں 
 
یہ جو تم حسن کی تلوار لیے پھرتی ہو 
سرد مہری سے اسے زنگ لگا سکتا ہوں 
 
شعر لکھ سکتا ہوں، اک اور حسینہ پہ بہت 
تجھ پہ لکھی تھی کبھی، غزل جلا سکتا ہوں 
 
میں بدل سکتا ہوں کردار کہانی کے سبھی 
تجھ کو رانی سے ابھی باندی بنا سکتا ہوں 
 
میں کوئی رانجھا نہیں روتا پھروں جنگلوں میں 
تیرے جاتے ہی نئی 'ہیر پٹا سکتا ہوں 
 
تو بدل سکتی ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں 
میری جاں! میں تجھے منٹوں میں بھلا سکتا ہوں

Bhula sakta hu urdu poetry


0 comments:

Post a Comment

 
Copyright © Urdu Poetry