Showing posts with label ishaq. Show all posts
Showing posts with label ishaq. Show all posts
0

kabhi ishaq ho to pta chaly


‘‘کبھی عشق ہو تو پتہ چلے‘‘

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

کہ بساط جاں پہ عذاب اترتے ہیں کس طرح

شب و روز دل پہ عتاب اترتے ہیں کس طرح

کبھی عشق ہو تو پتہ چلے

یہ لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پس دوستاں


تو یہ کون ہیں


یہ روگ سے ہیں چھپے ہوئے پس جسم و جاں


تو یہ کس لئے


یہ جو کان ہیں میرے آہٹوں پہ لگے ہوئے


تو یہ کیوں بھلا


یہ ہونٹ ہیں صف دوستاں میں سلےہوئے


تو یہ کس لئے


یہ جو اضطراب رچا ہواہے وجود میں


تو یہ کیوں بھلا


یہ جو سنگ سا کوئی آ گرا ہے جمود میں


تو یہ کس لیے


یہ جو دل میں درد چھڑا ہوا ہے لطیف سا


تو یہ کب سے ہے


یہ جو پتلیوں میں عکس ہے کوئی لطیف سا


سو یہ کب سے ہے


یہ جو آنکھ میں کوئی برف سی ہے جمی ہوئی


تو یہ کس لیے


یہ جو دوستوں میں نئی نئی ہےکمی ہوئی


تو یہ کیوں بھلا


یہ لوگ پیچھے پڑے ہوئے ہیں فضول میں


انہیں کیا پتہ


انہیں کیا خبر


کسی راہ کہ کسی موڑ پر جو ذرا انہیں


‘‘کبھی عشق ہو تو پتہ چلے‘‘


آپ کی آرا کا منتظر
عنصر محمود ستی 
0

mery ishaq ko nidhal kar


میرے عشق کو نڈھال کر
کبھی ہجر کو بھی وصال کر

میری آنکھ کو بینائی دے
میرے قلب کو اجال کر

مجھے درس دے تو فنا کا
میرا عشق میں برا حال کر

مجھے دے سزا کوئی سخت سی
مجھے اس جہاں میں مثال کر

میری اصل صورت بگاڑ دے
کسی عشق بھٹھی میں ڈال کر
 
Copyright © Urdu Poetry